بنگلہ دیش: سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے جلاوطن بیٹے کی 17 سال بعد واپسی، بی این پی کو سیاسی تقویت

0

ڈھاکہ — بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان تقریباً 17 سال کی جلاوطنی کے بعد جمعرات کو ڈھاکہ واپس پہنچ گئے، جہاں پارٹی کو امید ہے کہ ان کی واپسی سے کارکنوں میں نیا جوش پیدا ہوگا اور وہ 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر ابھریں گے۔

ڈھاکہ کے ہوائی اڈے سے استقبالیہ مقام تک لاکھوں حامیوں نے پارٹی جھنڈے لہرائے، پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے اور نعرے لگاتے ہوئے رحمان کا استقبال کیا۔ بی این پی کے سینئر رہنماؤں نے سخت سیکیورٹی میں ہوائی اڈے پر ان کا خیرمقدم کیا۔

سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے اور 60 سالہ طارق رحمان 2008 سے لندن میں مقیم تھے اور 2018 سے پارٹی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر قیادت کر رہے تھے۔ وہ ہلکے سرمئی چیکر بلیزر اور سفید قمیض میں ملبوس ہجوم کی جانب مسکراتے ہوئے اشارہ کرتے دکھائی دیے۔

وہ اس سے قبل ملک میں منی لانڈرنگ اور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے قتل کی مبینہ سازش سے متعلق مقدمات سمیت متعدد الزامات کے باعث وطن واپس نہیں آ سکے تھے اور انہیں غیر حاضری میں سزائیں بھی سنائی گئی تھیں۔ تاہم گزشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا، جس سے ان کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔

پارٹی عہدیداروں کے مطابق ان کی واپسی میں ذاتی پہلو بھی شامل ہے کیونکہ خالدہ ضیاء گزشتہ کئی ماہ سے شدید علیل ہیں، اور رحمان استقبالیہ تقریب کے بعد والدہ سے ملاقات کریں گے۔

حسینہ کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بنگلہ دیش کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جس سے دہائیوں پر محیط وہ دور ختم ہو گیا ہے جس میں حسینہ اور خالدہ ضیاء باری باری اقتدار میں رہیں۔ امریکہ میں قائم انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے دسمبر کے سروے کے مطابق بی این پی پارلیمانی نشستوں میں سب سے بڑی جماعت بننے کی پوزیشن میں ہے، جبکہ جماعت اسلامی بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہے۔

عوامی لیگ، جسے انتخابات سے باہر رکھا گیا ہے، نے بدامنی کی دھمکی دی ہے جس سے ووٹنگ کے عمل میں خلل پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کے تحت انتخابات کرائے جا رہے ہیں، اور اگرچہ حکام نے آزادانہ اور پرامن پولنگ کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم میڈیا اداروں پر حالیہ حملوں اور چھٹپٹ تشدد نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ان حالات میں طارق رحمان کی وطن واپسی بی این پی اور ملک کی نازک سیاسی منتقلی کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.