ملائیشیا: 1MDB کے سب سے بڑے مقدمے میں سابق وزیرِ اعظم نجیب رزاق مجرم قرار

0

کوالالمپور — ملائیشیا کی عدالت نے اربوں ڈالر کے بدنامِ زمانہ 1MDB اسکینڈل کے سب سے بڑے مقدمے میں سابق وزیرِ اعظم نجیب رزاق کو طاقت کے غلط استعمال اور منی لانڈرنگ کے تمام الزامات میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

عدالت نے نجیب رزاق کو 1 ملائیشیا ڈیولپمنٹ برہاد (1MDB) سے بڑے پیمانے پر مبینہ غبن میں کردار ادا کرنے پر اختیارات کے غلط استعمال کے چار اور منی لانڈرنگ کے 21 الزامات میں قصوروار ٹھہرایا۔ تاہم سزا کی مدت کے باضابطہ اعلان کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔

ملائیشیا اور امریکی تفتیش کاروں کے مطابق 1MDB سے کم از کم 4.5 ارب ڈالر چرائے گئے۔ یہ سرکاری فنڈ 2009 میں نجیب رزاق کے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ارب ڈالر سے زائد رقم نجیب سے منسلک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی، تاہم سابق وزیرِ اعظم نے الزامات کی مسلسل تردید کی ہے۔

فیصلہ سناتے ہوئے جج کولن لارنس سیکیرا نے کہا کہ نجیب رزاق کا یہ مؤقف کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے، “ٹھوس، ناقابلِ تردید اور مضبوط شواہد” کی روشنی میں مسترد کیا جاتا ہے، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملزم نے 1MDB میں اپنے بااختیار عہدے اور حاصل شدہ اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق نجیب رزاق کو ہر الزام پر 15 سے 20 سال تک قید کی سزا اور مبینہ بدعنوانی کی مالیت سے پانچ گنا تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے سے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کے حکومتی اتحاد میں دباؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ اتحاد میں شامل یونائیٹڈ ملائی نیشنل آرگنائزیشن (UMNO) میں نجیب رزاق کا اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے۔

واضح رہے کہ 72 سالہ نجیب رزاق اگست 2022 سے جیل میں ہیں، جب ملائیشیا کی اعلیٰ عدالت نے انہیں 1MDB سے غیر قانونی طور پر فنڈز حاصل کرنے کے ایک اور مقدمے میں بدعنوانی کا مجرم قرار دیا تھا۔ اس کیس میں دی گئی 12 سال قید کی سزا کو گزشتہ برس معافی بورڈ نے نصف کر دیا تھا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.