اراولی پہاڑی سلسلے کے تحفظ کے لیے انڈین یوتھ کانگریس کی ملک گیر عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان
نئی دہلی — انڈین یوتھ کانگریس نے دنیا کے قدیم ترین پہاڑی سلسلوں میں شمار ہونے والے اراولی کے تحفظ کے لیے ’’اراولی ستیاگرہ یاترا‘‘ کے نام سے ایک ملک گیر عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر اودے بھانو چب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یاترا کا باضابطہ پوسٹر جاری کرتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔
یہ اعلان سپریم کورٹ کی جانب سے اراولی پہاڑی سلسلے کی نئی تعریف کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر شمالی بھارت کے مختلف علاقوں میں شدید عوامی ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نئی تعریف کے تحت صرف وہ پہاڑیاں اراولی کا حصہ سمجھی جائیں گی جو اپنے اردگرد کے علاقے سے کم از کم 100 میٹر بلند ہوں، جس پر ماہرینِ ماحولیات اور مقامی آبادی نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اراولی کیا ہے؟
واضح رہے کہ اراولی پہاڑی سلسلہ دنیا کے قدیم ترین پہاڑی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جو راجستھان، ہریانہ، گجرات اور دارالحکومت دہلی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ شمال مغربی بھارت میں ریگستانی پھیلاؤ کو روکنے، زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرنے اور لاکھوں افراد کے روزگار کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سپریم کورٹ کی نئی تعریف کے بعد گروگرام، اودھے پور اور دیگر شہروں میں پُرامن احتجاجی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، جن میں مقامی باشندوں، کسانوں، ماحولیاتی کارکنوں، وکلا اور بعض سیاسی جماعتوں نے شرکت کی ہے۔
"پیپل فار اراولی” گروپ کی بانی رکن نیلم آہلو والیہ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ نئی تعریف اراولی کے ماحولیاتی کردار کو کمزور کر سکتی ہے، جس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
یاترا کی تفصیلات
اودے بھانو چب کے مطابق ’’اراولی ستیاگرہ یاترا‘‘ 7 جنوری سے 20 جنوری تک جاری رہے گی، جو گجرات سے شروع ہو کر راجستھان اور ہریانہ سے گزرتے ہوئے دہلی میں اختتام پذیر ہوگی۔ یہ یاترا ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے پر محیط ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس یاترا کا مقصد صرف فاصلہ طے کرنا نہیں بلکہ عوام میں اراولی پہاڑی سلسلے کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرنا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔
مطالبات اور الزامات
پریس کانفرنس کے دوران انڈین یوتھ کانگریس نے اپنے مطالبات بھی واضح کیے۔ اودے بھانو چب کے مطابق تنظیم کا مطالبہ ہے کہ:
-
اراولی رینج میں 100 میٹر کی حد کو ختم کیا جائے
-
اراولی کو ’’کرٹیکل ایکولوجیکل زون‘‘ قرار دیا جائے
-
سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے
-
حکومت اپنی موجودہ تجویز واپس لے
-
اراولی رینج میں کان کنی پر مکمل پابندی عائد کی جائے
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے خود سپریم کورٹ کو یہ تجویز دی تھی کہ 100 میٹر سے کم اونچائی والی پہاڑیوں کو اراولی رینج سے خارج کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے کان کنی کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کی ایک کمیٹی موجود تھی، جسے مودی حکومت نے تحلیل کر دیا اور بعد ازاں وزارتِ ماحولیات کے ذریعے یہ متنازع تجویز پیش کی گئی۔
اودے بھانو چب نے دعویٰ کیا کہ اب تک اراولی علاقے میں 50 نئی کان کنی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، حالانکہ 2010 میں سپریم کورٹ نے ایسی کان کنی کی توسیع پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ ان کے مطابق بعد میں بی جے پی کی راجستھان حکومت نے فیس وصول کر کے پہلے سے بند کان کنی کو دوبارہ اجازت دی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اراولی کے قدرتی وسائل بھی حکومت کے قریبی صنعتکاروں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔
آخر میں اودے بھانو چب نے کہا کہ انڈین یوتھ کانگریس ایک ذمہ دار شہری تنظیم کے طور پر انصاف اور ماحول کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور مطالبات کی منظوری تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔