نیپال میں الیکشن سے قبل نوجوان رہنماؤں کا اتحاد، روایتی جماعتوں کو بڑا سیاسی چیلنج
کھٹمنڈو میں آئندہ 5 مارچ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل نیپال کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دو مقبول رہنماؤں نے روایتی سیاسی جماعتوں کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کر لیا ہے۔
پارٹی عہدیداروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق کھٹمنڈو کے میئر اور سابق ریپر بلینڈر شاہ المعروف بیلن نے اتوار کو راسٹریہ سواتنتر پارٹی (آر ایس پی) میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس کی قیادت سابق ٹی وی اینکر رابی لامیچھانے کر رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت اگر آر ایس پی انتخابات میں کامیاب ہوئی تو 35 سالہ بیلن کو وزیر اعظم نامزد کیا جائے گا جبکہ لامیچھانے پارٹی سربراہ کی حیثیت برقرار رکھیں گے۔
دونوں رہنماؤں نے بدعنوانی کے خلاف اصلاحات اور نوجوانوں کے مطالبات کو اپنی سیاست کا مرکز بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مطالبات ستمبر میں ہونے والے وسیع پیمانے پر نوجوانوں کی قیادت میں مظاہروں کے دوران سامنے آئے تھے جن میں 77 افراد ہلاک ہوئے تھے اور جس کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔
سیاسی تجزیہ کار بپن ادھیکاری کے مطابق بیلن اور ان کے نوجوان حامیوں کو اپنے ساتھ ملانا آر ایس پی کی جانب سے ایک ہوشیار اور اسٹریٹجک اقدام ہے، جس سے روایتی جماعتیں خاص طور پر نوجوان ووٹروں کے معاملے میں دباؤ کا شکار ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق نیپال کی 30 ملین آبادی میں سے تقریباً 19 ملین افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جبکہ حالیہ مظاہروں کے بعد لگ بھگ 10 لاکھ نئے ووٹرز، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، انتخابی فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں۔
بیلن ستمبر کے مظاہروں کے بعد قومی منظرنامے پر نمایاں ہوئے اور نوجوانوں کی تحریک کے غیر اعلانیہ رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ووٹوں کی نگرانی کے لیے سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کی عبوری حکومت کی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا۔
گزشتہ تین دہائیوں سے نیپال میں اقتدار کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یو ایم ایل) اور سینٹرسٹ نیپالی کانگریس کے درمیان گردش کرتا رہا ہے، تاہم نئے اتحاد کو ان روایتی جماعتوں کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔