ماحول دوست گاڑیوں کیلئے مراعات،روایتی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز

نئے بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف کی تجویز جبکہ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز ہے۔ بڑی گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ جبکہ مقامی سطح پر تیار الیکٹرک وہیکلز سستی ہونے کی امید ہے تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر معمول کے ٹیکس برقرار رہیں گے۔

دستاویز کے مطابق مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کیلئے موٹرز، بیٹریز  اور دیگر پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ سیلز ٹیکس بھی ایک فیصد رکھنے کی سفارش ہے جبکہ فیڈرل ایکسائز،کیپٹل ویلیو اور ودہولڈنگ ٹیکس کی مکمل چھوٹ کی تجویز کی گئی ہے۔ عملدرآمد آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہے۔

دوسری طرف روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ پیٹرول اور  ڈیزل کے بعد اس پر چلنے والی گاڑیوں پر بھی کاربن لیوی لگانے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ دستاویز کے مطابق 2 ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر 10 سے 19.5 فیصد تک لیوی تجویز ہے۔ درآمدی پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر مرحلہ وار ٹیرف متعارف کرانے کا بھی منصوبہ تیار ہے۔ گاڑیوں پر لیوی سے 5 سال میں 142 ارب روپے سے زائد آمدن کا تخمینہ ہے۔

حکومت کا الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں ہائبرڈ گاڑیوں کو ترجیح نہ دینے کا پلان ہے البتہ آٹو پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں پر معمول کے ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے