راملہ – فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ایک ناگزیر حقیقت ہے، اور فلسطینی عوام مسلسل آزادی اور خودمختاری کی سمت بڑھ رہے ہیں۔
چینی خبررساں ادارے شِنہوا کے مطابق، صدر عباس نے ایک بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے مکمل خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، فلسطینی مہاجرین کی واپسی بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق یقینی بنائی جائے گی۔
صدر عباس نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینی جدید تاریخ کی بدترین نسل کشی اور نسلی صفائی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل بین الاقوامی قانون، عالمی قانونی حیثیت اور جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام نہ ہتھیار ڈالیں گے، نہ اپنا وطن چھوڑیں گے اور نہ ہی الحاق یا جبری بے دخلی کے منصوبے قبول کریں گے۔
انہوں نے فلسطینی عوام سے اپیل کی کہ وہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے تحت متحد رہیں، جسے انہوں نے فلسطینی عوام کا واحد جائز نمائندہ قرار دیا۔
صدر عباس نے مزید کہا کہ نہ صرف غزہ کے بغیر کوئی فلسطینی ریاست ممکن ہے اور نہ ہی صرف غزہ پر مشتمل کوئی ریاست قابل قبول ہوگی۔ غزہ دوبارہ فلسطینی قومی قانونی دائرے میں شامل ہوگا اور فلسطینی قومی منصوبے کے ایک مرکزی حصے کے طور پر اس کی تعمیر نو کی جائے گی۔
