یوکرینی ڈرونز کا ہدف صدر پیوٹن کی رہائش گاہ تھی، شواہد امریکا کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے: روسی حکام
ماسکو – روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کا ہدف صدر ولادیمیر پیوٹن کی صدارتی رہائش گاہ تھی، جو شمالی نووگوروڈ ریجن میں واقع ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی ڈرونز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ڈی کوڈ کر لیا گیا ہے، جس سے مبینہ حملے کے ہدف کی نشاندہی ہوئی ہے۔
روسی حکام کے مطابق اس حملے سے متعلق شواہد امریکا کے ساتھ بھی شیئر کیے جائیں گے۔ اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یوکرین نے نووگوروڈ کے علاقے میں روسی صدر کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس کے ماسکو کی مذاکراتی پوزیشن پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ یوکرین نے مبینہ طور پر نووگوروڈ میں واقع صدارتی رہائش گاہ پر 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ذریعے حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں بغیر جواب کے نہیں رہیں گی۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے روسی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس ان دعوؤں کے ذریعے کیف پر مزید حملوں کے لیے جواز پیدا کرنا چاہتا ہے اور امریکا کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دونوں ممالک کے بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔