بلغاریہ نے دہائیوں بعد قومی کرنسی لیو ترک کر کے یورو اختیار کر لیا

0

صوفیہ — جنوبی مشرقی یورپی ملک بلغاریہ نے دہائیوں بعد اپنی قومی کرنسی لیو کو ترک کرتے ہوئے باضابطہ طور پر یورو کو اپنا لیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی بلغاریہ یورو زون میں شامل ہونے والا اکیسواں یورپی یونین ملک بن گیا ہے۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 22:00 GMT پر بلغاریہ نے 19ویں صدی کے اواخر سے رائج اپنی قومی کرنسی کو الوداع کہہ دیا، جسے ملک کے یورپی انضمام کے ایک تاریخی مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ جہاں بعض حلقوں میں جشن کا باعث بنا، وہیں عوام کے ایک حصے میں بے چینی اور خدشات بھی دیکھنے میں آئے۔

یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے بلغاریہ کو یورو زون میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ "میں بلغاریہ کو یورو فیملی میں خوش آمدید کہتی ہوں۔”

بلغاریہ کی حکومتوں نے طویل عرصے سے یورو کو اپنانے کی حمایت کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام ملک کی نسبتاً کمزور معیشت کو استحکام فراہم کرے گا، یورپی اداروں کے ساتھ انضمام کو مضبوط بنائے گا اور خطے میں روسی اثرورسوخ کو محدود کرنے میں مدد دے گا۔

بلغاریہ کی آبادی تقریباً 64 لاکھ ہے اور اسے یورپی یونین کا سب سے غریب رکن ملک تصور کیا جاتا ہے، تاہم حکام کے مطابق یورو کو اپنانا سرمایہ کاری، مالی شفافیت اور معاشی استحکام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

آدھی رات سے قبل قوم سے ٹیلی وژن خطاب میں بلغاریہ کے صدر رومن رادیو نے یورو کو یورپی یونین میں بلغاریہ کے مکمل انضمام کا

"آخری قدم” قرار دیا، تاہم انہوں نے اس فیصلے پر عوامی ریفرنڈم نہ کرانے پر تنقید بھی کی۔

یورو کے نفاذ کے بعد اب بلغاریہ میں تمام مالی لین دین، تنخواہیں، قیمتیں اور سرکاری ادائیگیاں یورپی کرنسی میں کی جائیں گی، جبکہ عبوری مدت کے دوران عوام کو لیو سے یورو میں منتقلی کے لیے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.