یومِ حقِ خودارادیت کشمیر: اقوام متحدہ کی تاریخی قرارداد کو 77 برس، وعدہ آج بھی تشنۂ تکمیل
آج دنیا بھر میں 5 جنوری کو اقوام متحدہ کی اس تاریخی قرارداد کی یاد منائی جا رہی ہے جو 5 جنوری 1949 کو سلامتی کونسل نے منظور کی تھی، جس میں کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دینے کا واضح وعدہ کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی اس قرارداد میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر نہ تو بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور نہ ہی کوئی حل شدہ تنازع، بلکہ یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے، جس کا حل کشمیری عوام کی آزاد مرضی سے مشروط ہے۔
قرارداد کے مطابق جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزاد، شفاف اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے ہونا تھا، جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں کرائی جانی تھی۔ یہی اصول برصغیر کی تقسیم کے دوران دیگر ریاستوں پر بھی لاگو کیا گیا تھا، جب 560 سے زائد نوابی ریاستوں کو پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا اختیار دیا گیا تھا اور کسی آزاد یا خودمختار ریاست کا کوئی آئینی تصور موجود نہیں تھا۔
ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر کے معاملے میں بھی یہی اصول اپنایا جانا تھا، کیونکہ اس خطے کی جغرافیائی حیثیت، معاشی روابط، آبادی کی اکثریت اور سیاسی رجحانات فطری طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔
اگرچہ یہ قرارداد آج بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہے اور نہ کبھی منسوخ ہوئی اور نہ ہی اس کی قانونی حیثیت ختم ہوئی، تاہم گزشتہ سات دہائیوں سے اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس طویل تاخیر نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر محض زمین کے تنازع کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے مسلسل انکار کا معاملہ ہے۔
5 جنوری اس عالمی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی خطے پر قبضہ عوامی مرضی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ مبصرین کے مطابق جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی، یہ دن ایک ادھورے عالمی وعدے اور کشمیری عوام کے نامکمل انصاف کی علامت کے طور پر منایا جاتا رہے گا۔