ایشیا ٹائمز کے مطابق پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جبکہ خطے کے معاملات پربھارت کی سفارت کاری بالکل خاموش رہی۔
جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے محض تیل اور سپلائی کے نظام پر بات کی جبکہ پاکستان سفارتکاری کے ذریعے خطے میں امن کی بحالی کے لیے کوششوں میں مصروف رہا۔
ایشیا ٹائمز کے مطابق پاکستان سے بہترین تعلقات کے بعد امریکا کے لیے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز سے ہی پاکستان جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف رہا اور اس کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی اور ایرانی حکام سے مسلسل رابطے رکھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت دنیا بھر کے ممالک نے خطے میں امن اور جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور ڈونلڈ ٹرمپ تو حالیہ دنوں میں کئی بار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بہترین شخصیات قرار دے چکے ہیں۔
بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں اور میڈیا کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوشدید تنقید کا سامنا ہے۔
