ٹرمپ کی دھمکیوں پر کولمبیا کے صدر نے وطن کے دفاع کیلئے ہتھیار اٹھانے کا اعلان کردیا
بوگوٹا – کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وطن کے دفاع کے لیے دوبارہ ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق بوگوٹا میں جاری ایک بیان میں صدر پیٹرو نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں یہ عہد کیا تھا کہ وہ دوبارہ کبھی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے، تاہم موجودہ حالات میں ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے وہ اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی دھمکیوں اور خطے میں حالیہ فوجی اقدامات نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔
صدر پیٹرو نے واضح کیا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد دی جانے والی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی مداخلت نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے لاطینی امریکا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ گستاوو پیٹرو ایک سابق گوریلا رہنما رہ چکے ہیں اور حالیہ مہینوں میں وہ امریکی صدر کی جانب سے سخت بیانات اور ذاتی نوعیت کی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ہتھیار نہ اٹھانے کی قسم کھا چکے تھے، لیکن وطن کے دفاع کے لیے وہ ایک بار پھر ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں صدر پیٹرو کے حوالے سے متنازع بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کولمبیا کے پہلے بائیں بازو کے صدر کو اب “اپنی خیر منانی چاہیے”۔ ٹرمپ نے پیٹرو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بیمار شخص قرار دیا اور کولمبیا میں منشیات کی پیداوار سے متعلق سخت الزامات بھی عائد کیے تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے صدور کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس کے اثرات لاطینی امریکا کی مجموعی صورتحال پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔