بنگوئی – وسطی افریقی جمہوریہ کے صدر فوسٹین آرچینج تواڈیرا نے صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے تیسری مدت کے لیے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے عبوری نتائج کے مطابق تواڈیرا نے 28 دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں 76.15 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
68 سالہ تواڈیرا، جو پیشے کے اعتبار سے ریاضی دان ہیں، ایک دہائی قبل اقتدار میں آئے تھے۔ انہوں نے 2023 کے آئینی ریفرنڈم کے بعد صدارتی مدت کی حد کے خاتمے کے نتیجے میں تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑا۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ملک میں سیکیورٹی کی بہتری کو اپنی کامیابی قرار دیا، جس کے لیے روسی کرائے کے فوجیوں اور روانڈا کے دستوں کی مدد حاصل کی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے رواں سال متعدد باغی گروپوں کے ساتھ امن معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ میتھیاس موروبا کے مطابق سابق وزیر اعظم اینیسیٹ جارجز ڈولوگیلے کو 14.66 فیصد جبکہ سابق وزیر اعظم ہنری میری ڈونڈرا کو 3.19 فیصد ووٹ ملے۔ مجموعی ووٹ ڈالنے کی شرح 52.42 فیصد رہی۔
دوسری جانب مرکزی اپوزیشن اتحاد BRDC نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور نتائج کو پہلے ہی مسترد کر دیا تھا۔ ڈولوگیلے اور ڈونڈرا دونوں نے الگ الگ پریس کانفرنسز میں انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔ ڈولوگیلے کا کہنا تھا کہ نتائج میں ردوبدل کی منظم کوشش کی گئی، جبکہ حکومت نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
آئینی عدالت کے پاس انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ دینے اور 20 جنوری تک حتمی نتائج کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
