امریکہ نے ضبط شدہ روسی آئل ٹینکر کے عملے پر مجرمانہ مقدمات دائر کرنے کا اعلان کردیا

0

واشنگٹن — امریکی اٹارنی جنرل پام بوندی نے اعلان کیا ہے کہ ضبط کیے گئے آئل ٹینکر میرینیرا (جسے بیلا 1 بھی کہا جاتا ہے) کے عملے کے ارکان کے خلاف مجرمانہ الزامات عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہی۔

اٹارنی جنرل کے مطابق ٹینکر کے عملے نے جہاز کے بارے میں “جان بوجھ کر گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی” تاکہ مبینہ طور پر وینزویلا اور ایران سے منظور شدہ (پابندیوں کے شکار) تیل کی ترسیل کو چھپایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کوسٹ گارڈ کے احکامات کی عدم تعمیل کے باعث عملے کے خلاف مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پام بوندی نے مزید واضح کیا کہ امریکی محکمۂ انصاف ایسے کئی دیگر جہازوں کی بھی نگرانی کر رہا ہے اور جو بھی جہاز کوسٹ گارڈ یا دیگر وفاقی حکام کی ہدایات پر عمل نہیں کرے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے روزانہ کی بریفنگ میں بتایا تھا کہ مرینیرا کے عملے کو ممکنہ عدالتی کارروائی کے لیے امریکہ منتقل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان پر وفاقی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

پینٹاگون نے تصدیق کی تھی کہ روسی پرچم کے تحت چلنے والے آئل ٹینکر مرینیرا کو شمالی بحرِ اوقیانوس میں حراست میں لیا گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس کارروائی کو وینزویلا کے تیل پر عائد امریکی پابندیوں کے نفاذ سے جوڑا۔

دوسری جانب روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ 7 جنوری کو ماسکو کے وقت کے مطابق تقریباً شام 3 بجے امریکی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں، کسی بھی ریاست کے علاقائی دائرہ اختیار سے باہر، جہاز پر سوار ہو کر اسے تحویل میں لیا، جس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

روسی حکام نے زور دیا کہ 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کنونشن کے تحت کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی ایک بنیادی اصول ہے، اور کسی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسری ریاست کے دائرہ اختیار میں رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو شمالی بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم والے مرینیرا جہاز پر امریکی فوجیوں کے سوار ہونے سے متعلق اطلاعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزارت نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز کے عملے کے ساتھ مناسب اور انسانی سلوک کو یقینی بنایا جائے، ان کے حقوق اور مفادات کا مکمل احترام کیا جائے اور ان کی وطن واپسی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر وینزویلا، روس اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سمندری قوانین پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.