ایران میں بدامنی اور دہشت گردی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے، صدر پزشکیان

ریاض۔12فروری (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ ثقافت نے برطانیہ کے محکمہ ثقافت، میڈیا اور سپورٹس کے تعاون سے 2029 کو ’سعودی برطانوی ثقافتی سال‘ قرار دینے کا اعلان کیا ہے،یہ اعلان شہزادہ ولیم کے سعودی عرب کے پہلے سرکاری دورے کے موقعے پر کیا گیا۔سعودی خبررساں ادارے ’’ایس پی اے ‘‘کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے جن کی جڑیں ایک صدی سے زائد پر محیط سفارتی روابط میں ہیں۔ حالیہ برسوں میں ثقافتی تبادلہ سعودی برطانوی تعلقات کی بنیاد کے طور پر ابھرا ہے جو کہ تحفظِ ورثہ، ویژوئل اینڈ کلنری آرٹس، فنِ تعمیر اور اعلیٰ تعلیم میں مشترکہ اقدامات کی بدولت ممکن ہوا ، 2029 کو مشترکہ ثقافتی سال قرار دینے سے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی ورثے کے حوالے سے تقریبات، تخلیقی مکالمے اور مختلف پروگرام منعقد ہوں گے جس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے تناظر میں2029 کو مشترکہ ثقافتی سال قرار دینے سے دونوں دوست ملکوں کے درمیان ثقافتی شعبوں میں بھی تعلقات مضبوط ہوں گے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے تناظر میں عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت شہریوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدامنی اور دہشت گردی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کو کسی قسم کے تحفظات ہیں تو انہیں دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ کسی انتشاری گروہ کو پورے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر اور دہشت گردوں کے دھوکے میں نہ آئیں اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ان سرگرمیوں سے دور رکھیں۔ ان کے بقول یہ عناصر باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں اور شہریوں کی جان و مال کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایرانی صدر نے الزام لگایا کہ ملک کے دشمنوں نے اندرون و بیرون ملک ایک گروہ کو اس مقصد کے لیے تیار کیا ہے کہ وہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچائے اور شہریوں کو قتل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے اور شرپسند دراصل حقیقی احتجاجی مظاہرین نہیں ہیں، جبکہ حکومت پرامن احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سن رہی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

صدر پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کے خدشات کم کرنے اور ان کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی اور کسی بیرونی طاقت کو قوم کے درمیان انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ بیرونی حمایت سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے مقابلے میں حکومت کا ساتھ دیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے