ایران میں بدامنی اور دہشت گردی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے، صدر پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے تناظر میں عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت شہریوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدامنی اور دہشت گردی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کو کسی قسم کے تحفظات ہیں تو انہیں دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ کسی انتشاری گروہ کو پورے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر اور دہشت گردوں کے دھوکے میں نہ آئیں اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ان سرگرمیوں سے دور رکھیں۔ ان کے بقول یہ عناصر باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں اور شہریوں کی جان و مال کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایرانی صدر نے الزام لگایا کہ ملک کے دشمنوں نے اندرون و بیرون ملک ایک گروہ کو اس مقصد کے لیے تیار کیا ہے کہ وہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچائے اور شہریوں کو قتل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے اور شرپسند دراصل حقیقی احتجاجی مظاہرین نہیں ہیں، جبکہ حکومت پرامن احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سن رہی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
صدر پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کے خدشات کم کرنے اور ان کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی اور کسی بیرونی طاقت کو قوم کے درمیان انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ بیرونی حمایت سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے مقابلے میں حکومت کا ساتھ دیں۔