امریکا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت، سکیورٹی خدشات پر انتباہ

US instructs its citizens to leave Iran, warns of security concerns

واشنگٹن/تہران – امریکا نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ایران میں قائم امریکی ورچوئل سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں، جو کسی بھی وقت تشدد کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستوں کے ذریعے آرمینیا یا ترکیہ کے راستے ایران سے روانہ ہو جائیں اور ایسے انتظامات کریں جن میں امریکی حکومت کی مدد پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو امریکی شہری ایران چھوڑنے سے قاصر ہیں یا وہاں ہی قیام کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ محفوظ مقامات پر گھروں کے اندر رہیں، احتجاجی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات سے دور رہیں اور خوراک، پانی، ادویات سمیت دیگر ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ کر لیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں سینئر امریکی معاونین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی پیشکش پر غور کر رہا تھا، تاہم اسی دوران صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دینے کے آپشن پر بھی غور کرتے دکھائی دے رہے تھے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے