ایران میں کریک ڈاؤن کے بعد ایرانی شہری ترکی کی سرحد پار کرنے لگے
وان، ترکی – ایران میں حکام کی جانب سے مذہبی قیادت کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر شدید کریک ڈاؤن کے بعد متعدد ایرانی شہری ترکی میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بدھ کے روز کاپیکوئی سرحدی گزرگاہ کے ذریعے درجنوں ایرانی خاندان اور افراد وان صوبے کی جانب روانہ ہوئے، جنہوں نے اپنا سامان ساتھ لے کر سرحد پار کی۔
عینی شاہدین کے مطابق ایرانی شہری احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں اور اکثر میڈیا سے بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ وہ ایران واپس جانے کی صورت میں ممکنہ نتائج سے خوفزدہ ہیں۔
دو سفارت کاروں کے مطابق، متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے، جس کے بعد ایران سے ترکی آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم سرحد پر موجود ترک سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ صورتحال غیر معمولی نہیں اور آمد و رفت میں کوئی نمایاں اضافے کا ریکارڈ نہیں ملا، تاہم حالات پر مسلسل گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ ان کی مدد جاری ہے۔ ایک انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق ایران میں مظاہروں کے دوران 2,600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسی دوران تہران میں امریکی مجازی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت دی اور انہیں زمینی راستوں سے ترکی یا آرمینیا جانے پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔
ایرانی حکام نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے مظاہروں میں مداخلت کی تو امریکی اڈوں کو جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
بدھ کے روز ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور موجودہ علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔