شاہد آفریدی کی کراچی چھوڑ کر مستقل اسلام آباد منتقلی کی تصدیق، سیاست سے متعلق مؤقف بھی واضح
اسلام آباد – پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ چند ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں اپنی نئی رہائش گاہ پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے ملکی سیاسی و انتظامی نظام پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل، جمہوری عمل کی مضبوطی اور ریاستی اداروں کی آئینی مدت کی تکمیل ہی کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی ادارے اپنی آئینی مدت مکمل کریں تو نہ صرف پالیسیاں برقرار رہتی ہیں بلکہ ترقی کے ثمرات بھی جلد عام شہری تک پہنچتے ہیں۔
انہوں نے کہا “میں پاکستان کو تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن اس کے لیے سب سے بنیادی چیز تسلسل ہے۔ جب نظام بار بار ٹوٹے گا تو ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔”
سابق کپتان نے سیاست میں آنے کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ فی الحال سیاست میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا“پاکستان اور پاکستان کرکٹ نے مجھے دنیا بھر میں عزت، پہچان اور مقام دیا۔ میری خواہش ہے کہ اب میں کسی نہ کسی صورت میں ملک اور کرکٹ کو کچھ واپس لوٹا سکوں، لیکن سیاست میں آنے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں۔”
شاہد آفریدی نے انکشاف کیا کہ ماضی میں انہیں مختلف اہم حکومتی عہدوں کی پیشکش کی گئی، تاہم انہوں نے ہمیشہ ایسی ذمہ داریوں سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا “محض رسمی یا نمائشی عہدے میرے لیے کشش نہیں رکھتے۔ اگر کبھی کوئی ذمہ داری لی بھی تو وہ حقیقی کام اور اثر رکھنے والی ہونی چاہیے۔”
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنی چاہیے اور چیف جسٹس، آرمی چیف سمیت تمام آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو بھی اپنی مقررہ مدت پوری کرنے دی جانی چاہیے۔