سپریم لیڈر پر حملہ ایرانی قوم کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگا: صدر مسعود پزشکیان
تہران – ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش کی گئی تو اسے ایرانی قوم کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں سخت لہجے میں دشمنوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عظیم رہنما پر حملہ دراصل پوری قوم پر حملے کے مترادف ہوگا، جس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام گزشتہ کئی برسوں سے معاشی مشکلات اور سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ امریکی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کی گئی غیر انسانی اور ظالمانہ پابندیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں براہِ راست عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں، مگر اس کے باوجود ایرانی قوم اپنے اصولوں اور خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مسعود پزشکیان کا یہ سخت ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ انٹرویو کے بعد سامنے آیا ہے جو انہوں نے امریکی جریدے پولیٹیکو کو دیا تھا۔ انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران دنیا میں رہنے کے لیے بدترین جگہ بن چکا ہے اور اب وہاں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آ گیا ہے۔
ٹرمپ کے ان بیانات کو تہران میں شدید اشتعال انگیز اور داخلی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ملک بھر میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والے جانی نقصان اور املاک کی تباہی کے اصل ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جن کی پالیسیوں نے خطے میں عدم استحکام کو ہوا دی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی صدر اور سپریم لیڈر کے حالیہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تہران امریکی دباؤ، بیانات اور ممکنہ دھمکیوں کو قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کر رہا ہے، جس کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔