Lebanon کے جنوبی علاقے میں ایک واقعے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
Al Jazeera کے مطابق یہ مجسمہ سرحدی گاؤں دبل کے قریب نصب تھا اور اس تصویر کو آن لائن پلیٹ فارمز پر 50 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔
بعد ازاں Israel کی فوج نے اپنے بیان میں اس تصویر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اہلکار جنوبی لبنان میں ایک فوجی کارروائی کے دوران موجود تھا۔ فوج کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور نتائج کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض ارکان پارلیمنٹ نے اسے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا عمل قرار دیا ہے جبکہ سماجی کارکنان نے مذہبی مقامات اور علامات کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی اور حساسیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور اس طرح کے واقعات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
