شدید سردی نے امریکا کو جکڑ لیا، 17 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ، ہزاروں پروازیں منسوخ
واشنگٹن — امریکا شدید نوعیت کے برفانی طوفان کی لپیٹ میں آ گیا ہے جس کے باعث ملک کی متعدد ریاستوں میں نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو گیا، جبکہ دو لاکھ تیس ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق برفباری، ژالہ باری، منجمد بارش اور تیز سرد ہواؤں نے امریکا کے مشرقی دو تہائی حصے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید شدید ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ہزاروں فضائی پروازیں منسوخ
طوفان کے پیشِ نظر ہفتے کے روز چار ہزار سے زائد فضائی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ اتوار کے لیے نو ہزار سے زیادہ پروازوں کی منسوخی کی اطلاع دی گئی ہے۔
فضائی کمپنیوں کے مطابق خراب موسم کے باعث ہوائی اڈوں پر شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔
17 ریاستوں میں موسمی ایمرجنسی نافذ
امریکی محکمۂ داخلی سلامتی کے مطابق 17 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں موسمی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں لوزیانا، مسیسیپی، ٹیکساس، ٹینیسی اور نیو میکسیکو شامل ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش رپورٹ کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کی ہنگامی منظوری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس برفانی طوفان کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے جنوبی کیرولائنا، ورجینیا، ٹینیسی، جارجیا، نارتھ کیرولائنا سمیت 11 ریاستوں میں وفاقی ہنگامی حالت نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور شدید سرد موسم کے دوران حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
بجلی بحران سے نمٹنے کے اقدامات
امریکی محکمۂ توانائی نے ٹیکساس میں بجلی کی ممکنہ قلت سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ دیگر ریاستوں میں بھی پاور گرڈ کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید تباہ کن صورتحال کا خدشہ
قومی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرقی امریکا میں برف اور منجمد بارش کے باعث شدید اور بعض علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ کر لیں اور ہنگامی صورتِ حال میں سرکاری اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔