یورپ میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کے مطالبات شدت اختیار کرنے لگے
برلن — یورپ اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کے مطالبات یورپی حلقوں میں زور پکڑنے لگے ہیں، جس سے عالمی فٹبال کے سب سے بڑے ایونٹ پر سیاسی سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یورپی سیاست دانوں، فٹبال شائقین اور کھیلوں سے وابستہ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ امریکا کی موجودہ انتظامیہ کے حالیہ اقدامات، بالخصوص گرین لینڈ سے متعلق بیانات اور پالیسیوں، نے امریکا میں ہونے والے اس میگا ایونٹ میں شرکت کو متنازع بنا دیا ہے۔
عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس (ڈیووس) سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ یہ کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کو طاقت کے ذریعے ضم نہیں کریں گے، تاہم اسی تقریر میں طاقت کے استعمال سے متعلق اشاروں نے یورپی دارالحکومتوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔
یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع اور جارحانہ پالیسیوں کے باعث ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہنا ناگزیر ہو چکا ہے، جس میں کھیلوں کے بڑے عالمی ایونٹس کے بائیکاٹ کا آپشن بھی شامل ہے۔
ڈنمارک کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ثقافت اور کھیل سے متعلق ترجمان موگنز ینسن نے واضح کیا ہے کہ فی الحال ان کی جماعت ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے حق میں نہیں، تاہم اگر امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور ناگزیر ہو جائے گا۔
ان کے مطابق ایسی صورت میں ڈنمارک سمیت دیگر یورپی ممالک کے لیے ورلڈ کپ میں شرکت پر نظرِ ثانی کرنا لازم ہو سکتا ہے۔
ادھر رپورٹس کے مطابق یورپی فٹبال کی اعلیٰ گورننگ باڈی یوئیفا نے پیر کے روز رکن ممالک کی فٹبال ایسوسی ایشنز کے سربراہان کا اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں امریکا کی جانب سے بعض یورپی ممالک پر عائد کیے گئے 10 فیصد تجارتی ٹیرف بھی زیرِ بحث آئے۔
ان ممالک میں ناروے، نیدرلینڈز، جرمنی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں، جن کی ٹیمیں پہلے ہی فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، جبکہ ڈنمارک، سویڈن اور شمالی آئرلینڈ پلے آف مرحلے میں ہیں۔
جرمنی میں بھی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے حوالے سے سیاسی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ جرمن پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن روڈرش کیزیویٹر کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ سے متعلق دھمکیوں پر عمل کیا یا یورپی یونین کے خلاف تجارتی جنگ کا آغاز کیا تو یورپی ممالک کے لیے ورلڈ کپ میں شرکت کا تصور بھی مشکل ہو جائے گا۔
تاہم جرمنی کی وزیرِ کھیل کرسٹیانے شینڈرلائن نے اس معاملے کو سیاست سے الگ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ کھیلوں کے ایونٹس میں شرکت یا بائیکاٹ کا فیصلہ سیاست دانوں کے بجائے متعلقہ فٹبال تنظیموں کا اختیار ہے۔
نیدرلینڈز میں معروف صحافی اور سماجی کارکن تیون فان ڈی کیوکین کی جانب سے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے حق میں شروع کی گئی آن لائن پٹیشن پر اب تک ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کا نظریہ اب قابلِ عمل نہیں رہا، کیونکہ سیاست عملاً کھیلوں میں داخل ہو چکی ہے۔
دوسری جانب فیفا صدر جیانی انفانٹینو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات نے بھی یورپی حلقوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ موگنز ینسن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا اس عالمی ایونٹ کو سیاسی تشہیر اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یوئیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کا آئندہ اجلاس اس معاملے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یورپ کی بڑی فٹبال طاقتیں مشترکہ طور پر بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو اس کے عالمی فٹبال، فیفا کی ساکھ اور ٹورنامنٹ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیسے کلاوینیس نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی ایک ملک کا اکیلے بائیکاٹ مؤثر ثابت نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے یورپی ممالک کو متحد ہو کر مشترکہ فیصلہ کرنا ہوگا۔