یورپی یونین نے روسی گیس پر پابندی کی حتمی منظوری دے دی

0

برسلز — یورپی ممالک نے روسی قدرتی گیس پر پابندی سے متعلق قانون کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت یورپی یونین 2027 سے روس سے گیس کی درآمد مکمل طور پر بند کر دے گی۔

خبر ایجنسی کے مطابق پیر کے روز برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں رکن ممالک نے اس قانون کی منظوری دی، جس کے بعد روسی توانائی پر انحصار ختم کرنے کا یورپی عزم باقاعدہ طور پر قانونی شکل اختیار کر گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت یورپی یونین یکم جنوری 2027 سے روسی قدرتی گیس کی درآمد روک دے گی، جبکہ روس سے پائپ لائن کے ذریعے آنے والی گیس 30 ستمبر 2027 سے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

خبر ایجنسی کے مطابق یہ پالیسی یوکرین پر روس کے حملے کے تقریباً چار سال بعد یورپی یونین کے اس اعلان کو قانونی طور پر پابند بناتی ہے، جس میں ماسکو کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعلقات ختم کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف روسی معیشت پر دباؤ بڑھانا ہے بلکہ یورپ کی توانائی سلامتی کو مستحکم بناتے ہوئے متبادل ذرائع، بالخصوص مائع قدرتی گیس (LNG) اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنا بھی ہے۔

تاہم اس قانون کی منظوری کے دوران ہنگری نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ ہنگری کی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ ملک کی توانائی سلامتی اور معیشت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ہنگری کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس قانون کو یورپی عدالتِ انصاف میں چیلنج کریں گے، جس سے یورپی یونین کے اندر توانائی پالیسی پر اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یورپی یونین نے گزشتہ برسوں میں روسی گیس پر انحصار نمایاں حد تک کم کر لیا ہے، تاہم 2027 کی ڈیڈ لائن یورپی توانائی مارکیٹ میں بڑے اسٹرکچرل تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.