اسرائیلی فوج کا غزہ میں یرغمالی کی باقیات ملنے کا دعویٰ، یرغمالیوں کی واپسی کا عمل مکمل قرار
غزہ — اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ایک اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد کر لی گئی ہیں، جس کے بعد غزہ میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کی واپسی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ باقیات حالیہ کارروائیوں کے دوران غزہ کے ایک علاقے سے ملی ہیں، جس کے بعد یرغمالیوں سے متعلق جاری مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں نافذ جنگ بندی معاہدے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ غزہ میں موجود تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو، چاہے وہ زندہ ہوں یا جاں بحق، واپس کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی مرحلہ وار رہائی بھی شامل تھی، جس پر فریقین کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد اتفاق رائے ہوا تھا۔
عرب ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ یرغمالیوں کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد انسانی بحران میں کمی، امدادی رسائی اور کشیدگی میں عارضی کمی لانا بھی تھا۔
تاہم مبصرین کے مطابق یرغمالیوں کی واپسی کے باوجود غزہ کی مجموعی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جبکہ مستقل جنگ بندی اور سیاسی حل سے متعلق پیش رفت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔