غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے ایک تازہ سلسلے میں مزاحمتی تنظیم Hamas کے سینئر رہنما Khalil al-Hayya کے خاندان کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ان کے بیٹے عزام الحیہ اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوگئے ہیں، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ حملہ غزہ شہر کے علاقے الدراج میں کیا گیا، جہاں رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں 9 دیگر فلسطینی شہری بھی زخمی ہوئے۔ خلیل الحیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے بیٹے کی حالت نازک ہے، تاہم انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کے حملے فلسطینی عوام کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتے۔
اسی روز ایک علیحدہ حملے میں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مغربی علاقے المواصی میں فلسطینی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر بھی شہید ہو گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق شہید ہونے والے افسر کی شناخت کرنل Naseem al-Qalazani کے طور پر ہوئی ہے، جو خان یونس میں انسداد منشیات یونٹ کے سربراہ تھے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان کی گاڑی کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس کے علاوہ غزہ شہر کے علاقے الزیتون میں مزید حملوں کے دوران 3 فلسطینی شہید ہوئے، جس سے ایک ہی دن میں مجموعی اموات کی تعداد کم از کم 4 تک پہنچ گئی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے ان واقعات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
ادھر غزہ کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے، جہاں محدود یا جزوی جنگ بندی کے باوجود فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی طبی ذرائع کے مطابق اکتوبر سے جاری اس کشیدگی کے دوران سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق غزہ میں جاری صورتحال نہ صرف انسانی بحران کو بڑھا رہی ہے بلکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ سیاسی حل کی کوششوں کو بھی مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
