روس اور یوکرین نے متحدہ عرب امارات میں مذاکرات کے بعد 314 قیدیوں کا تبادلہ کیا، جنگ ختم کرنے میں پیش رفت نہ ہوئی

0

روس اور یوکرین نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے مذاکرات کے بعد 314 قیدیوں کا تبادلہ کیا، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بڑے معاہدے پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا، روس اور یوکرین کے وفود کے درمیان ابوظبی میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے دوران اس قیدی تبادلے پر اتفاق ہوا، جسے امریکی ثالث نے پانچ ماہ بعد ہونے والا پہلا بڑا تبادلہ قرار دیا۔ امریکی نمائندے اسٹیو وِٹکوف کے مطابق دونوں فریقوں نے 157،157 قیدیوں کا تبادلہ کیا، جس کی روسی وزارتِ دفاع نے بھی تصدیق کی۔

مذاکرات کو مثبت قرار دیا گیا تاہم امریکا نے کہا کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی "اہم اور مشکل کام باقی ہے”۔ روسی مذاکرات کار کریل دمتریف نے بھی کچھ پیش رفت ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم علاقائی تنازع پر کوئی واضح حل سامنے نہیں آیا اور روس نے اپنے مطالبات میں نرمی نہیں دکھائی۔

ادھر روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملے جاری ہیں، جس کے باعث شدید سردی میں کیف کے کئی علاقوں میں بجلی اور حرارت کی فراہمی متاثر ہوئی۔ یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے بدھ کو اعتراف کیا کہ فروری 2022 کے بعد کم از کم 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ روس نے اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ "جب تک کیف مناسب فیصلے نہیں کرتا، جنگ جاری رہے گی۔” واضح رہے کہ روس مشرقی یوکرین کے ڈونباس علاقے سے فوج کے انخلا اور قبضہ شدہ علاقوں کو روسی تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ یوکرین موجودہ محاذی لائن پر جنگ کو منجمد رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.