حماس نئی قیادت کے انتخاب کے آخری مرحلے میں داخل
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے نئے سربراہ کے انتخاب کے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں دو نمایاں شخصیات خالد مشعل اور خلیل الحیہ میں سے کسی ایک کے منتخب ہونے کا امکان ہے۔
شوری کونسل اور انتخابی عمل
- حماس نے حال ہی میں اپنی نئی شوری کونسل کی تشکیل کی ہے، جو ایک مشاورتی فورم ہے۔
- شوری کونسل میں سیاسی بیورو کے ارکان، سینئر رہنما اور دینی علماء شامل ہیں۔
- کونسل کے ارکان کا انتخاب چار سال کے لیے کیا جاتا ہے اور اس میں حماس کی تین بڑی شاخیں — غزہ پٹی، مغربی کنارہ، اور بیرون ملک — نمائندگی کرتی ہیں۔
- اسرائیلی جیلوں میں قید حماس کے ارکان کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا ہے۔
- شوری کونسل کا کام سیاسی بیورو کے سربراہ کا انتخاب کرنا ہے، جسے تحریک کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔
- نئی قیادت ایک سال کے لیے کام کرے گی اور اسے عبوری دور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ممکنہ رہنما
- خلیل الحیہ: 65 سالہ، غزہ کے رہنے والے، 2006 سے حماس کے مذاکراتی عمل میں شامل، موجودہ سربراہ۔
- خالد مشعل: مغربی کنارے کے رہائشی، 1956 میں پیدا ہوئے، 2004 سے 2017 تک سیاسی بیورو کے سربراہ رہ چکے ہیں، زیادہ تر وقت جلا وطنی میں گزارا۔
پس منظر
حماس نے گزشتہ دو سال سے زائد عرصے تک اسرائیل کے ساتھ طویل جنگ لڑی، جو 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی پر ختم ہوئی۔ اب جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
حماس کے ذرائع کے مطابق ہزاروں ارکان ووٹ دینے کے اہل ہیں، تاہم ووٹنگ کے طریقہ کار کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔
یہ انتخابی عمل عبوری اور نیا سیاسی رخ دینے والا سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل نے ماضی میں دونوں رہنماؤں کو حملوں اور سازشوں کا نشانہ بنایا مگر ناکام رہا۔