آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی جانب بڑا قدم،پہلی بار بجلی کی ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ فعال ہونے کے قریب پہنچ گئی۔
ذرائع کےمطابق ڈیریگولیٹڈ مارکیٹ میں بجلی مارچ میں فروخت کیلئےپیش ہونےکا امکان ہے،ابتدائی طور پر 200 میگاواٹ بجلی نیلامی کیلئے پیش کی جائے گی،ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ بی تھری اور بی فورصنعتوں کے لیے قائم ہوگی،ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ میں بجلی پر عائد کپیسٹی چارجز ختم ہو جائیں گے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ بجلی کی خرید وفروخت کے لیے آزادمارکیٹ آپریٹر پہلے ہی قائم کئے جاچکے،ابتدائی طور پر ایک میگا واٹ والے بڑے صارفین کو بجلی بیچی جائےگی، 4 سال کے دوران مارکیٹ میں دستیاب بجلی 800 میگا واٹ تک کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق بڑے صارفین صرف بجلی کمپنیوں کے انسٹالیشن کے چارجز دیں گے،ڈسکوز کو گرڈ اور تاریں استعمال کرنے کے ویلنگ چارجز ادا کئے جائیں گے،بی 3 کے لیے چارجز 6 روپے،بی 4 کے لیے 9 روپے فی یونٹ مقرر ہیں،مارکیٹ میں جو سستی بجلی دے گا صارفین اسی سے خریدیں گے۔