سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے، چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان رجیم کی کواڈکاپٹر کے ذریعے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی، سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کا پٹرز گرادیے گئے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے گولہ باری جاری ہے، افغان طالبان رجیم کے 72 اہلکار ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ڈرونز کے ذریعے چن چن کرطالبان ریجیم کی پوسٹوں کونشانہ بنایا جارہا ہے۔
سکیورٹی ذرئع کے مطابق افغان طالبان کے 12پوسٹیں مکمل تباہ اور 5افغان پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا، ایک بڑا ایمونیشن ڈپو، 3افغانی بٹالین اورسیکٹرہیڈکوارٹرمکمل طور پر تباہ کردیئے گئے، موثر جوابی کارروائی میں افغانستان کے 30سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیزتباہ اور مورچے مکمل تباہ ہوگئے۔
پاک افغان سرحد پر کھڑے پاک فوج کے جوان مادر وطن کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں۔ باجوڑ سیکٹر پر کھڑے پاک فوج کے جوان کا کہنا ہے کہ رات کو افغان سرحد کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور یہ دوبارہ دہرائی گئی، افغان طالبان کو اندازہ نہیں کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔
فوجی جوان کا کہنا ہے کہ جواب کارروائی میں ہم نے دہشتگردوں بالخصوص افغان طالبان کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا، ہماری قوم کسی سے بھی ڈرنے والی نہیں ہے، اگر کوئی بھارت کے کہنے پر ہم سے پنگا لے گا تو اسے یہ پنگا بہت مہنگا پڑے گا، پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔