خیبر پختونخوا پولیس نے پشاور ،خیبر، ہنگو اوربنوں ریجن کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر ہونے والے متعدد حملوں کو بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔
پولیس حکام کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ضلع خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں شرپسندوں نے پولیس تنصیبات کو ہینڈ گرینیڈ اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔
پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ماشو گگر روڈ کی جانب سے تھانے پر دستی بم حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں روزنامچہ میں موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہوگئے۔ تھانہ متنی کی حدود میں پی پی سرا خاورہ پر بھی دستی بم حملے میں ایک شہری زخمی ہوا۔
بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں پی پی کنگر پل پر رات کے پہلے پہر مختلف سمتوں سے اسنائپر رائفلز کے ذریعے فائرنگ کی گئی۔ اسی طرح تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ کیا گیا۔ پولیس کی فوری جوابی کارروائی کے بعد تقریباً 15 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔
ڈی پی او یاسرآفریدی نے بتایا کہ بنوں شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ تمام شاہراہوں اور چوکوں پرپولیس تعینات کردی گئی۔
ادھر ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کی جانب سے مؤثر جوابی فائرنگ کی گئی جس کے بعد حملہ آور پسپا ہوگئے۔
ہنگو میں قاضی تالاب کےمقام پرپولیس چیک پوسٹ پرفائرنگ کی گئی۔ ڈی پی او کےمطابق پولیس نےجوابی کارروائی کرکےحملہ پسپاکردیا، دہشت گرد فرارہوگئے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے فرنٹ لائن پر موجود جوانوں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
انہوں نے زخمی اہلکار اور شہری کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے پولیس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
پولیس کے مطابق واقعہ کے بعد تمام متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔