ایران پر اسرائیی-امریکی حملہ کھلی جارحیت، اقوام متحدہ کی ہنگامی میٹنگ بلائی جائے، روس

Leonid Slutsky, head of the Russian State Duma's International Affairs Committee

روسی ریاست ڈوما کی بین الاقوامی امور کی کمیٹی کے سربراہ لیونیڈ سلٹسکی نے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ مشترکہ حملوں کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلٹسکی نے کہا کہ یہ حملے جان بوجھ کر کیے گئے اور ان کے بڑھتے اثرات پورے خطے کے لیے انتہائی منفی نتائج سے بھرپور ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ "بغیر کسی شک کے، صورتحال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی متقاضی ہے۔ عالمی برادری کو ایسے منظر نامے کو روکنا چاہیے جس سے تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔”

روسی قانون ساز نے مزید کہا کہ جنیوا میں ایرانی جوہری دستاویز پر گزشتہ روز ہونے والی بات چیت کے تناظر میں، "قبل از وقت حملے” یا امریکی عوام کے دفاع کے نام پر کیے گئے دعوے حقیقت میں تہران میں حکمران حکومت کو ہٹانے کی ایک "سموک اسکرین” کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے ایک مستقل پالیسی اپنائی ہے جس کا مقصد جے سی پی او اے سے شروع ہونے والے تمام معاہداتی عمل کو کمزور کرنا اور ایران کی جوہری سرگرمیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔

ماہرین کے مطابق روس کا یہ موقف ایران کے خلاف اسرائیل-امریکہ کے عسکری اقدامات پر عالمی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے بڑھنے اور عالمی سلامتی کے خطرات کے پیش نظر عالمی اداروں اور طاقتوں کو فوری ردعمل کی ضرورت ہے۔

یہ پیش رفت ایران، امریکہ، اسرائیل اور روس کے تعلقات میں ایک نیا پیچیدگی پیدا کرتی ہے اور خطے میں امن و سلامتی کے مستقبل پر اثر ڈال سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے