اقوامِ متحدہ سیکرٹری جنرل کی ایران پر حملوں کی مذمت، انتونیو گوتریس کا فوری مذاکرات کا مطالبہ
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے اور فوری سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کو خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے کسی بھی ریاست کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے ایران پر حملوں کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ایران کی جوابی کارروائیاں خطے کے مختلف حصوں تک پھیل رہی ہیں، جس سے تنازع کے وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ ایران پر حملوں اور اس کے ردعمل نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، لہٰذا تمام متعلقہ فریق فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں اور مذاکرات کی میز پر آئیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ جنگ بندی اور سیاسی حل کے لیے فعال کردار ادا کرے۔
ادھر اقوامِ متحدہ میں موجود مبصرین کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان شدید اختلافات دیکھنے میں آئے، تاہم بیشتر ممالک نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارتی حل کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔