Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

اسحاق ڈار کی استنبول میں آر-4 کے اجلاس میں شرکت ، سعودی عرب کیساتھ یکجہتی کا اظہار

اکتوبر 23, 2026

ایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکان

اکتوبر 23, 2026

آصف زرداری کی جرمنی کے صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

اکتوبر 23, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
ہفتہ, اکتوبر 24
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»دنیا»ریجیم چینج پر یقین نہیں رکھتے، ایران پر حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوئے: برطانوی وزیراعظم
دنیا

ریجیم چینج پر یقین نہیں رکھتے، ایران پر حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوئے: برطانوی وزیراعظم

EditorBy Editorمارچ 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
ریجیم چینج پر یقین نہیں رکھتے، ایران پر حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوئے: برطانوی وزیراعظم
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

لندن – برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی ملک میں فضائی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی (ریجیم چینج) کے نظریے کی حمایت نہیں کرتا، اسی لیے ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں براہِ راست شرکت کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ایسے کسی اقدام کی تائید نہیں کرتی جس کا مقصد عسکری کارروائی کے ذریعے کسی ریاست کی حکومت گرانا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے قبل واضح قانونی جواز اور بین الاقوامی قانون سے مطابقت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ برطانوی افواج کو کسی فوجی کارروائی میں اس وقت تک شامل نہیں کریں گے جب تک انہیں مکمل اطمینان نہ ہو کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔

تاہم برطانوی حکومت نے امریکا کی درخواست پر اپنے فوجی اڈوں کو دفاعی نوعیت کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق امریکی افواج کو برطانوی اڈوں سے ایران کے میزائل مقامات کے خلاف دفاعی اقدامات کی اجازت دی گئی ہے۔

اس فیصلے کے بعد سر کیئر اسٹارمر کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست شامل نہ ہونے کے ابتدائی اعلان کو بعض حلقوں نے سراہا، تاہم امریکی افواج کو برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے پر تنقید بھی کی گئی۔

یاد رہے کہ برطانوی اڈوں کے استعمال کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کے مؤقف کو مایوس کن قرار دیا تھا۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    مصر سعودی عرب کے سرحدی دفاع میں مدد کرے گا، حوثیوں پر حملے نہیں: السیسی

    اکتوبر 23, 2026

    نیوزی لینڈ کے فوجی سربراہ ٹونی ڈیویز کا استعفیٰ، ماضی کے نامناسب تعلق کی ذمہ داری قبول کرلی

    اکتوبر 23, 2026

    متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی جنرل سیکرٹری کے لیے نامزد

    اکتوبر 23, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.