مسابقتی کمیشن نے پاکستان کے سول ایوی ایشن سیکٹر پر جامع مارکیٹ اسٹڈی جاری کر دی۔ رپورٹ میں پاکستان کے فضائی شعبے میں ساختی اصلاحات ناگزیر قرار دی گئی ہیں۔
مسابقتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق دو دہائیوں میں پاکستان کی فضائی صنعت نے 34 کروڑ مسافروں کوخدمات فراہم کیں، سالانہ فضائی مسافروں کی تعداد 12.8 ملین سے بڑھ کر 24.3 ملین ہوگئی۔ اسٹڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن ملکی فضائی سفر جمود کا شکار ہے۔ مقامی ایئرلائنزکی مالی کمزوری اورخلیجی ایئرلائنزپرانحصارمیں اضافہ ہوا۔
مسابقتی کمیشن نے ادارہ جاتی عدم ہم آہنگی اورپالیسی عدم تسلسل کو فضائی صنعت کے بڑے چیلنجز قرار دیا۔ سی سی پی نے قومی سول ایوی ایشن روڈ میپ متعارف کروانے کی سفارش کی۔ کم لاگت ایئرلائنز، مقامی ایم آر او اور ایس ایم ای شمولیت بڑھانے کی تجویز دی۔
مسابقتی غیرجانبداری اور مارکیٹ میں آزادانہ داخلہ یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ سی سی پی مارکیٹ اسٹڈی رپورٹ کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے ویب سائٹ پر جاری بھی کردیا گیا ہے جبکہ حتمی رپورٹ بعد میں جاری ہوگی۔
