سپریم کورٹ نے سزائے موت کیخلاف اہم فیصلہ جاری کردیا۔ بیوی اوربیٹی کےقاتل محمد امین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرتے ہوئے قرار دیا مجرم اپنی 15 سال کی بیٹی کا واحد بچ جانے والا سہارا ہے۔ عدلیہ کی سرپرستی میں بچوں کویتیم نہیں کر سکتے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کیا، فیصلے کے مطابق زندہ بچ جانے والے والد کو پھانسی دینا عدلیہ کی سرپرستی میں بچوں کو یتیم کرنے کے مترادف ہے، ریاست کو ایک بچے کی مکمل بےچارگی اور خاندان کی تباہی کا معمار نہیں بننا چاہیے، اقوام متحدہ کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظررکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
عدالت نے جرم کی سنگینی اور بربریت کے باعث عدالت نے مجرم کو دفعہ 382 بی کے تحت سزا میں رعایت دینے سے انکار بھی کر دیا۔ مجرم محمد امین پر وہاڑی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کو خنجر کے وار سے قتل کرنے کا مقدمہ اپریل 2021 میں درج ہوا تھا۔ وقوعہ سے ایک روز قبل مجرم کا اپنی اہلیہ اور بچوں سے زرعی زمین کی فروخت کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے مجرم کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جبکہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے ملزم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔
