واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایرانی حکومت کے ارکان کی امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کو اپنے لیے بڑا اعزاز قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تروتھ سوشل پر لکھا کہ "ہم ایران کی دہشت گرد حکومت کو فوجی، معاشی اور دیگر تمام طریقوں سے مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے دنیا بھر میں بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہا ہے، اور اب وہ بطور امریکہ کا 47 واں صدر ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "یہ کرنا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔” ان کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی اقدامات کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث کو مزید شدت دی ہے۔
ٹرمپ نے "فوکس نیوز” کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ باقیات موجود ہیں، تاہم امریکی حملوں میں ایران کے بیشتر میزائل اور ڈرون تباہ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا:
"ہم نے ایران پر اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ کیا ہے جتنا دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کسی بھی ملک پر ہوا ہے”۔
صدر ٹرمپ نے تجارتی جہازوں کو ہمت دکھانے کی ہدایت دی اور کہا کہ "آبنائے ہرمز سے گزرنے میں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہم نے ایرانی تمام بحری جہاز ڈبو دیے ہیں اور ان کے پاس کوئی بحری طاقت باقی نہیں رہی”۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ "میرا خیال ہے وہ کسی نہ کسی طرح ابھی تک زندہ ہیں” اور امکان ظاہر کیا کہ وہ حملے میں زخمی ہوئے ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے ان کے لیے اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا:
"ٹھیک ہے، وہ بہت باتیں کرتے رہے ہیں، اب انہیں خود کو ثابت کرنا ہوگا”۔
یہ امریکی بیان اس وقت سامنے آیا جب مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں اعلان کیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا اور امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا بدلہ لے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز بند رکھنے اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
ایرانی بحریہ نے بھی اپنے بیٹے کے پیغام کے بعد تصدیق کی کہ وہ "آبنائے ہرمز کو بند رکھے گی اور جارحیت کا مقابلہ جاری رکھے گی”۔
