یورپی یونین کا آبنائے ہرمز میں فوجی شرکت سے انکار، سفارتکاری کو ترجیح

European Union refuses military participation in Strait of Hormuz, prefers diplomacy

European Union نے خلیج فارس میں جہاز نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی آپریشن کا حصہ نہیں بنے گی۔

یہ فیصلہ یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود سفارتی حل کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا گیا۔ یورپی ممالک نے امریکی صدر Donald Trump سے ایران جنگ کی حکمت عملی پر وضاحت کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ Kaja Kallas نے کہا کہ رکن ممالک فی الحال یورپی بحری مشن کو آبنائے ہرمز تک وسعت دینے کے حق میں نہیں ہیں، اور زیادہ تر ممالک جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ خوراک، کھاد اور توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کا محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے، تاہم اس مقصد کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتکاری کو ہی بہترین راستہ سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب Germany کے چانسلر نے بھی واضح کیا کہ NATO کو اس تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہیے، جبکہ France کے صدر پہلے ہی جہاز بھیجنے سے انکار کر چکے ہیں۔ اس سے قبل United Kingdom کے وزیر اعظم بھی جنگ میں براہ راست حصہ نہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ اس بحران میں فوجی مداخلت کے بجائے سفارتی توازن اور کشیدگی میں کمی کو ترجیح دے رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے