ویژن پوائنٹ فیکٹ چیک: کابل میں حالیہ حملے کے بعد سامنے آنے والے متضاد بیانات کے درمیان ایک عینی شاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں کسی سول ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایک ایسے مقام کو ہدف بنایا گیا جو مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال تھا۔
عینی شاہد کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی جگہ ایک قلعہ بند کمپاؤنڈ تھا جہاں غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی جاتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ مقام عام شہری سرگرمیوں کے بجائے سیکیورٹی نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، جس سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ یہ کوئی طبی سہولت نہیں تھی۔
یہ بیان ان الزامات کے برعکس سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حملے میں "امید ہسپتال” کو نقصان پہنچا۔ حکام پہلے ہی اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ مذکورہ ہسپتال حملے کی اصل جگہ سے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ نشانہ بننے والا مقام ایک معروف فوجی تنصیب بتایا جا رہا ہے۔
عینی شاہد نے مزید کہا کہ حملے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود ڈھانچے اور ملبے کی نوعیت بھی کسی ہسپتال سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ ان کے مطابق وہاں کنٹینرز اور عسکری طرز کے انفراسٹرکچر کے آثار موجود تھے، جو کسی شہری طبی مرکز کے بجائے ایک عسکری کمپاؤنڈ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب، طالبان کی جانب سے اب تک یہ مؤقف برقرار رکھا گیا ہے کہ حملے میں ایک شہری سہولت کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، اس حوالے سے آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں متضاد معلومات کا سامنے آنا غیر معمولی نہیں، خاص طور پر جب مختلف فریق اپنے اپنے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حتمی نتائج اخذ کرنے سے قبل آزاد تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد کا انتظار ضروری ہے۔
