تہران – ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک سویڈش شہری کو سزائے موت دے دی گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ملزم Quresh Kiani کو گزشتہ برس گرفتار کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ سے سزا برقرار رہنے کے بعد اسے پھانسی دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ملزم کو Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) کے انٹیلی جنس ونگ نے جون 2025 میں ساووجبولاگ کے علاقے سے حراست میں لیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس کے قبضے سے نقد رقم، گاڑیاں اور جدید مواصلاتی و نگرانی کا سامان برآمد ہوا، جبکہ اس پر حساس مقامات کی معلومات Mossad کو فراہم کرنے کا الزام تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق مقدمے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور ملزم کو اپیل کا حق بھی دیا گیا، تاہم انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اس کیس میں آزادانہ شواہد کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سویڈن کی وزیر خارجہ Maria Malmer Stenergard نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی کارروائی شفاف انصاف کے تقاضوں پر پوری نہیں اتری۔ انہوں نے بتایا کہ سویڈن نے مختلف سطحوں پر اس کیس کو ایرانی حکام کے سامنے اٹھایا اور شہری کے حقوق کے تحفظ کی کوشش کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مبینہ طور پر ملزم کو آن لائن رابطے کے ذریعے بھرتی کیا گیا اور بیرون ملک تربیت دینے کے بعد ایران واپس بھیجا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر جاسوسی اور تخریبی کارروائیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
