واشنگٹن میں ہونے والی ایک اہم کانگریشنل سماعت میں امریکی انٹیلیجنس قیادت نے ایران اور دیگر عالمی طاقتوں سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ John Ratcliffe نے کہا کہ “آپریشن ایپک فیوری” امریکا کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھا، خبردار کرتے ہوئے کہ اگر ایران کو نہ روکا گیا تو اس کے میزائل مستقبل میں امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
کانگریس میں اہم بریفنگ
امریکی نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر Tulsi Gabbard اور دیگر اعلیٰ حکام نے سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے دو گھنٹے سے زائد بریفنگ دی۔ یہ ایران-امریکا جنگ کے آغاز کے بعد پہلی عوامی انٹیلیجنس بریفنگ تھی۔
گبارڈ کے مطابق:
- ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے
- آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے پر خطرات کی پہلے ہی پیش گوئی کی جا چکی تھی
- ایرانی حکومت کمزور ضرور ہوئی ہے، مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی
میزائل خطرات اور عالمی طاقتیں
امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ:
- Iran کے ساتھ ساتھ China، Russia اور North Korea بھی ایسے میزائل تیار کر رہے ہیں جو امریکا تک مار کر سکتے ہیں
- اگر ایرانی قیادت برقرار رہی تو وہ اپنا میزائل پروگرام دوبارہ فعال کر سکتی ہے
جوہری پروگرام پر متضاد مؤقف
دلچسپ طور پر Tulsi Gabbard نے اس بات کی نشاندہی کی کہ:
- 2025 کے امریکی آپریشن “مڈنائٹ ہیمر” کے بعد ایران نے جوہری افزودگی کی صلاحیت بحال کرنے کی کوئی واضح کوشش نہیں کی
- یہ مؤقف Donald Trump کے اس دعوے سے مختلف ہے جس میں وہ ایران کے جوہری خطرے کو جنگ کی بنیادی وجہ قرار دیتے رہے ہیں
دوسری جانب ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
عسکری اثرات اور زمینی حقیقت
امریکی حکام کے مطابق حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایران کی:
- میزائل صلاحیت
- بحری طاقت
کو نمایاں نقصان پہنچا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی خاص طور پر آبنائے ہرمز میں اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اندرونی اختلافات بھی سامنے آگئے
اسی دوران امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر Joe Kent نے جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیتے ہوئے کہا:
- ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا
- جنگ کا فیصلہ درست نہیں تھا
مجموعی جائزہ
یہ بریفنگ ظاہر کرتی ہے کہ:
- امریکی اداروں کے اندر ایران سے متعلق خطرات پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں
- عسکری کامیابیوں کے دعوؤں کے باوجود خطہ بدستور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے
- عالمی سطح پر طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کو آپ کی ویب سائٹ کے لیے SEO optimized، ہیڈ لائن + میٹا ڈسکرپشن + تجزیاتی انداز میں مکمل آرٹیکل کی شکل میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔
