ایران میں نئی قیادت سامنے آئی ہے اور اسے “رجیم چینج” قرار دیا جا سکتا ہے، ٹرمپ کا نیا مؤقف

More than 30 Iranian ships laying mines were destroyed, some countries are enthusiastic about securing the Strait of Hormuz, some are showing disinterest, Trump

امریکی صدر Donald Trump نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق ایک بار پھر سخت اور متضاد نوعیت کے بیانات دیے ہیں۔

Donald Trump نے کہا کہ ایران میں نئی قیادت سامنے آئی ہے اور اسے “رجیم چینج” قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے اندرونی سیاسی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اس بات پر رضامند ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور اس بار “صحیح افراد” سے بات چیت ہو رہی ہے جو معاہدہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اس بار زیادہ “سمجھداری” کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور جوہری معاہدے کی سمت پیش رفت ممکن ہے۔

Donald Trump نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات یا ثبوت فراہم نہیں کیے۔

اپنی گفتگو میں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران نے ایک “حیرت انگیز کام” کیا ہے اور ایک “بہت بڑا تحفہ” دیا ہے جس کی قیمت زیادہ تھی، تاہم اس بیان کی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ کس واقعے یا اقدام کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

امریکی ٹیم کی شمولیت

انہوں نے بتایا کہ نائب صدر JD Vance، وزیر خارجہ Marco Rubio اور خصوصی ایلچی Steve Witkoff ایران سے متعلق سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے