10 گناہ گاروں کو بری کرنا ایک بے گناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے 20 سال پرانے قتل کیس میں ملزم کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دیدی،عدالت نے قرار دیاکہ صرف مفرور ہونےکی بنیاد پر کسی ملزم کو قصوروار نہیں کہا جا سکتا،شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملتا ہے۔

کراچی کے 20 سال پرانےقتل کیس کا اہم فیصلہ،سپریم کورٹ نےٹرائل کورٹ اورسندھ ہائیکورٹ کی جانب سےملزم کودی گئی عمرقیدکی سزا کالعدم قراردیدی،8 صفحات پرمشتمل فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نےتحریر کیا۔

فیصلےمیں قراردیاگیاکہ صرف مفرور ہونےکی بنیادپرکسی ملزم کو قصوروار قرارنہیں دیاجاسکتا، فیصلے میں کہاگیاکہ استغاثہ بغیرشک وشبہ کےکیس ثابت کرنےمیں ناکام رہا،پیش کیےگئےشواہد تضادات، نقائص اورشکوک وشبہات سے بھرپور تھے۔

عدالت نےنشاندہی کی کہ جائے وقوعہ اورپولیس اسٹیشن کے درمیان صرف 2 سے3 کلومیٹر کا فاصلہ تھا مگراس کےباوجود ایف آئی آر اُسی روزدرج نہ کرانے اور زخمی گواہ کےمدعی نہ بننےکی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں دی گئی،وقوعےسےملنے والے 5 خالی خول فرانزک تجزیے کیلئے لیبارٹری نہیں بھجوائے گئے۔۔

سپریم کورٹ نےسندھ ہائیکورٹ کے اس مؤقف کو بھی مسترد کردیا کہ وقوعے کے 14 سال بعد گرفتاری ملزم کے قصوروار ہونے کا ثبوت ہے،عدالت نےقراردیا کہ ملزم سے دفعہ 342کے بیان میں مبینہ مفروری سے متعلق سوال ہی نہیں پوچھا گیا اس لیےاسے اس کےخلاف استعمال نہیں کیاجاسکتا،یہ طے شدہ اصول ہےکہ اگرکسی واقعےمیں شک پیدا ہوتو اسکا فائدہ ملزم کوہی جاتا ہے،سپریم کورٹ نےاپنےفیصلے میں یہ آبزرویشن بھی دی کہ چودہ سو سال سےیہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گنہگاروں کو بری کرنا بہتر ہے۔

عدالت نےحکم دیاکہ اگر درخواست گزارمحمد اقبال کسی اور مقدمےمیں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پررہا کیا جائے،ملزم کےخلاف 2006میں بلدیہ ٹاؤن کراچی میں 2 افراد کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے