نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے پاکستان مخالف غیر مہذب بیان پر بھارت میں شدید سیاسی اور سفارتی تنقید شروع ہو گئی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بھارتی اپوزیشن نے جے شنکر کے بیان کو نہ صرف غیر مہذب قرار دیا بلکہ بھارتی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سفارتی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے۔ کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر شمّع محمد نے کہا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے منتخب ہونا اور بھارت کا اس عمل سے باہر رہنا مودی حکومت کی سفارتی ناکامی ہے۔
کانگریسی ممبر سپریا شری نیتے نے کہا کہ بھارت نے روس اور یوکرین جنگ کے دوران ثالثی کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اب جے شنکر کے بیان نے یہ ظاہر کیا کہ بھارت حقیقت میں بروکر ملک کے طور پر کردار ادا نہیں کر رہا۔
تجزیہ کار اشوک سوائن کے مطابق جے شنکر کے نازیبا الفاظ محض سڑک کی زبان ہیں اور کسی وزیر خارجہ کے لیے قابل قبول نہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق یہ غیر سفارتی بیان بھارت کی حالیہ خلیجی بحران میں ناکامی کو چھپانے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ بھارت کو اس بحران میں مرکزی کردار نہیں ملا۔
جے شنکر کے بیان نے بھارت کی نام نہاد امن کی دعویداری، سفارتی ساکھ اور عالمی سنجیدگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، اور ملک میں سیاسی حلقوں کی جانب سے مودی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
