بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب اسرائیلی حملہ، 10 دن میں تیسرا واقعہ: آئی اے ای اے

Attack near Bushehr nuclear plant, third incident in 10 days: IAEA

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے جنوب مغربی شہر بوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ کے قریب ایک حملہ پیش آیا، تاہم اس واقعے کے نتیجے میں کسی قسم کی تابکاری لیک نہیں ہوئی اور نہ ہی ری ایکٹر کو کوئی نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران ایران میں مبینہ حملوں کی تیسری رپورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

International Atomic Energy Agency کے مطابق جمعہ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے حوالے سے ایران نے ادارے کو آگاہ کیا کہ بوشہر نیوکلیئر پلانٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور اس کی تکنیکی یا ساختی صورتحال متاثر نہیں ہوئی۔

ایجنسی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کے قریب ہونے والے واقعات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیان کے مطابق حالیہ واقعہ گزشتہ 10 دنوں میں رپورٹ ہونے والا تیسرا حملہ ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق رات تقریباً 11:40 پر ایک گولہ پلانٹ کے علاقے میں گرا، جس کا الزام “امریکی صیہونی دشمن” پر عائد کیا گیا ہے۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ادھر اسرائیلی فوج نے اسی روز دعویٰ کیا کہ اس نے وسطی ایران میں بعض تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں بھاری پانی کے ری ایکٹر اور یورینیم پروسیسنگ سے متعلق سہولیات شامل ہیں، تاہم بوشہر کا اس بیان میں ذکر نہیں کیا گیا۔

Rafael Grossi نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے دوران “زیادہ سے زیادہ فوجی تحمل” کی ضرورت ہے تاکہ کسی بڑے حادثے یا تابکاری کے خطرے سے بچا جا سکے۔

بوشہر جوہری پلانٹ Iran کا واحد فعال نیوکلیئر ری ایکٹر ہے، جسے پہلی بار 2011 میں قومی پاور گرڈ سے منسلک کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق حساس جوہری تنصیبات کے قریب حملے نہ صرف سکیورٹی خدشات کو بڑھاتے ہیں بلکہ خطے میں جوہری سلامتی کے حوالے سے بھی سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا شکار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے