ایران جنگ ہماری نہیں، برطانیہ حصہ نہیں بنے گا: برطانوی وزیراعظم

برطانوی وزیرِاعظم کیر اسٹارمر 28 جنوری کو چار روزہ دورے پر چین پہنچیں گے

Keir Starmer نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ برطانیہ کی نہیں اور ان کا ملک اس میں شامل نہیں ہوگا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ذمہ دارانہ پالیسی اپنائی ہے، جبکہ اپوزیشن کے پاس جنگ کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں تھی، جو ملک کو سنگین بحران سے دوچار کر سکتی تھی۔

اس سے قبل پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے Keir Starmer نے Conservative Party (ٹوری پارٹی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹوری پارٹی کا رویہ امتیازی ہے اور وہ خاص طور پر مسلمانوں کے مذہبی معاملات پر اعتراض اٹھاتی ہے، جبکہ دیگر مذاہب کے تہواروں پر خاموش رہتی ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ Trafalgar Square میں ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے تہوار باقاعدگی سے منائے جاتے ہیں، لیکن جب مسلمان اپنے مذہبی فرائض ادا کرتے ہیں تو انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے اس طرز عمل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے معاشرتی تقسیم کو بڑھاتے ہیں اور حکومت اس قسم کی امتیازی سوچ کی حمایت نہیں کر سکتی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے