مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث اہم عالمی گزرگاہ Strait of Hormuz میں تقریباً تین ہزار تجارتی جہاز پھنس جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی تجارت اور ترسیل کے نظام کو شدید دھچکا لگا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کے باعث اس بحری راستے پر نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ شپنگ اخراجات میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ سامان کی ترسیل کا وقت بھی تقریباً تین گنا بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کئی بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کمپنیاں اب متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جن میں طویل زمینی راستے بھی شامل ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ سے نہ صرف لاگت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سپلائی چین میں تاخیر بھی بڑھ گئی ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچ رہے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں کی گئی بلکہ یہ صرف ان ممالک کے لیے محدود ہے جو اس کے بقول جارحیت میں ملوث ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق دیگر ممالک اپنے جہازوں کی گزرگاہ کے لیے باقاعدہ اجازت حاصل کر سکتے ہیں۔
