امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان، “فوجی اہداف جلد حاصل کرلیں گے”

امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان، “فوجی اہداف جلد حاصل کرلیں گے”

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

امریکی عوام سے اپنے اہم خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع ہوئے ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے اور اس دوران امریکی فوج نے فیصلہ کن حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی نیوی اور ایئر فورس کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا گیا ہے جبکہ کئی اہم عسکری رہنما بھی مارے جا چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں تمام فوجی مقاصد حاصل کر لیے جائیں گے اور اس حوالے سے پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو بھی شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ایٹم بم بنانے کی صلاحیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔

خطاب کے دوران انہوں نے “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران نے متبادل مقامات پر پروگرام جاری رکھنے کی کوشش کی۔

امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ ہزاروں افراد کو ہلاک کیا گیا، تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اب خطے کے تیل پر انحصار کی ضرورت نہیں رہی اور آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے کا معاملہ دیگر ممالک پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں مختلف جنگوں، بشمول ویتنام اور عراق، کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے خلاف جاری مہم کو ایک اہم اسٹریٹیجک مرحلہ قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا اپنا مشن مکمل کرے گا، چاہے اس کے لیے مزید وقت اور وسائل درکار ہوں۔

آخر میں انہوں نے ناسا کے آرٹیمس مشن کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خلا نورد کامیابی کے ساتھ اپنا مشن مکمل کر کے واپس لوٹیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے