یورپی حکام نے خبردار کیا ہے کہ نیٹو کو امریکہ کے ممکنہ انخلاء کے خدشات کے باعث سنگین بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، جو اتحاد کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
ویب سائٹ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق یورپی سفارت کاروں اور عہدیداروں نے شمالی اٹلانٹک اتحاد کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک یورپی سفارت کار کے مطابق نیٹو اس وقت عملی طور پر “مفلوج” ہو چکا ہے اور بعض اوقات اجلاس منعقد کرنے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ایک یورپی یونین کے عہدیدار نے کہا کہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اتحاد کمزور پڑ رہا ہے، اور یورپ کو فوری طور پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک مزید انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے اور انہیں خودمختار دفاعی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی رہنما اور دفاعی حکام اس ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابتدائی اقدامات کر رہے ہیں، جس میں امریکہ کے اتحاد سے نکلنے کے امکانات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ نیٹو کا قیام 1949 میں عمل میں آیا تھا اور اس کے بعد سے یہ یورپی سلامتی کا بنیادی ستون رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اس اتحاد سے الگ ہوتا ہے تو اس کے عالمی سکیورٹی ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
