میانمار کے آرمی چیف من آنگ ہلینگ صدر منتخب، سیاسی منظرنامہ مزید تبدیل

Myanmar army chief Min Aung Hlaing elected president, political landscape changes further

میانمار کے آرمی چیف Min Aung Hlaing صدر منتخب ہو گئے ہیں، جس کے بعد ملک کے سیاسی ڈھانچے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق میانمار اسمبلی کے اسپیکر نے تصدیق کی ہے کہ من آنگ ہلینگ نے پارلیمنٹ میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران 584 میں سے 293 ووٹ حاصل کیے۔ یہ انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں فوجی اثر و رسوخ پہلے ہی نمایاں ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ سیاسی جماعت نے 80 فیصد سے زائد نشستیں حاصل کیں، جس سے پارلیمان میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔

من آنگ ہلینگ، جو 69 سال کے ہیں، نے 2021 میں نوبل امن انعام یافتہ رہنما Aung San Suu Kyi کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک میں سیاسی بحران اور عدم استحکام کی صورتحال برقرار ہے۔

دوسری جانب میانمار کے فوجی حکمرانوں پر ASEAN کے اجلاسوں میں شرکت پر پابندی بھی عائد ہے، جو خطے میں جاری سیاسی کشیدگی اور سفارتی تنہائی کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ پیش رفت میانمار میں جمہوری عمل، فوجی اقتدار اور علاقائی تعلقات کے تناظر میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کے اثرات مستقبل کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے