معروف قوال Ghulam Farid Sabri کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے، مگر ان کی گائی ہوئی قوالیاں آج بھی سننے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
"Tajdar-e-Haram” اور "Bhar Do Jholi Meri” جیسی شہرۂ آفاق قوالیوں نے غلام فرید صابری کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پہچان دلائی۔ ان کی آواز اور انداز آج بھی قوالی کے شائقین کو مسحور کر دیتا ہے۔
1930ء میں مشرقی پنجاب (برصغیر) میں پیدا ہونے والے غلام فرید صابری نے کم عمری میں ہی قوالی کی طرف رجحان اختیار کیا۔ وہ اپنے بھائی Maqbool Sabri کے ساتھ مل کر "صابری برادران” کے نام سے مشہور ہوئے۔
1970 اور 1980 کی دہائیاں ان کے فن کا عروج تھیں، جب انہوں نے اپنی منفرد آواز اور روح پرور انداز سے قوالی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی قوالیوں کو فلموں میں بھی شامل کیا گیا، جن میں "محبت کرنے والوں” اور "آفتابِ رسالت” خاص طور پر مقبول ہوئیں۔
Ghulam Farid Sabri نے اردو کے علاوہ پنجابی، سرائیکی اور سندھی زبانوں میں بھی کلام پیش کیا، جس سے ان کے فن کو مزید وسعت ملی۔
اپریل 1994ء میں کراچی میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی قوالیوں کی گونج آج بھی محافل میں سنائی دیتی ہے اور سامعین کو وجد میں لے آتی ہے۔
