پوپ لیو چہار دہم کا ایسٹر پیغام، عالمی تنازعات کے بارے میں بے حسی ترک کرنے کی اپیل

Pope Leo XIV's Easter message calls for abandoning indifference to global conflicts

پوپ لیو چہار دہم نے دنیا بھر میں جاری تنازعات کے تناظر میں لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ بے حسی اختیار نہ کریں بلکہ امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کریں۔

سینٹ پیٹرز بیسیلیکا میں ایسٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ بداعتمادی اور خوف نے انسانی تعلقات کو متاثر کیا ہے، جبکہ جنگ اور ناانصافی نے عالمی سطح پر تقسیم کو بڑھا دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں انسانیت کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کسی مخصوص تنازع کا نام نہیں لیا، تاہم ماضی میں وہ عالمی رہنماؤں پر زور دیتے رہے ہیں کہ تنازعات کو بڑھنے سے روکا جائے اور سفارتی حل تلاش کیے جائیں۔

مذہب اور جنگ سے متعلق مؤقف

رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیٹھ کی جانب سے جنگ کو مذہبی رنگ دینے کے بیانات پر پوپ لیو نے اختلاف ظاہر کیا ہے۔

پیٹ ہیگسیٹھ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوجی مذہبی مقصد کے تحت لڑ رہے ہیں اور انہوں نے پوپ سے دعا کی درخواست بھی کی، تاہم پوپ لیو نے اس طرزِ فکر سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ:

  • جنگ کو مذہب سے جوڑنا مسیحی تعلیمات کے منافی ہے
  • حضرت عیسیٰؑ کا پیغام امن، ہمدردی اور انسانی جانوں کے تحفظ پر مبنی ہے
  • مذہب کو غلبہ یا تشدد کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے

اہم نکات

  • پوپ لیو نے عالمی برادری سے امن کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی
  • انہوں نے خوف اور بداعتمادی کو موجودہ عالمی کشیدگی کی بڑی وجہ قرار دیا
  • مذہب کو جنگی بیانیے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی
  • انسانی جانوں کے تحفظ اور مکالمے کو ترجیح دینے پر زور دیا

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف خطوں میں کشیدگی اور تنازعات عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں، اور مذہبی و اخلاقی رہنما مسلسل امن اور مفاہمت کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے